رشتہ ناطہ
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - قرابت، بیاہ، شادی، اپنائیت، آپس داری۔ "زمیندار اچل سنگھ سے رشتہ ناطہ تو کچھ تھا نہیں۔" ( ١٩٧٥ء، بدلتا ہے رنگ آسماں، ٢١٢ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'رشتہ' کے ساتھ سنسکرت زبان کے اصل لفظ 'ناتا' کی ایک املا 'ناطہ' لگانے سے مرکب 'رشتہ ناطہ' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩٩ء کو "رویائے صادقہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - قرابت، بیاہ، شادی، اپنائیت، آپس داری۔ "زمیندار اچل سنگھ سے رشتہ ناطہ تو کچھ تھا نہیں۔" ( ١٩٧٥ء، بدلتا ہے رنگ آسماں، ٢١٢ )
جنس: مذکر